کیا معدنیات فروخت کر کے کوئی ملک اپنا مقدر بدل سکا ہے ؟

دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہےجو اس بات کا سائن بورڈ ہیکہ رشوت اور کرپشن سے ملک چل سکتے ہیں نااہلی سے نہیں۔۔

رشوت خور گاڑی کے شیشے دروازے اور کھڑکیاں بیچے گا جبکہ نااہل آدمی انجن بیچ کھائے گا ۔

راستے منزلوں کا نشاں دیتے ہیں.

ہر راستہ پر منزل کی نشانیاں دیتے بل بورڈ، سائن بورڈ، میل کے نشانات یہ بتاتے ہیں کہ منزل کیا ہے یا یہ راستہ جاتا کدھر کو ہے۔ چلیں ایک مثال کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا سا ملک تھا انتہائی خوبصورت، قدرت نے اپنا حسن اس پر دل کھول کر برسایا تھا ،  ساحل پر سمندر کی ہوائیں چلتی تو ساحلوں پر میلے کا سماں ہوتا تھا، ملک کے رہائشی سادہ اور قدرت کے قریب رہنے والے تھے جدید دور کی  سہولیات نہ تھی لیکن صحت باہمی میل جول ، مضبوط معاشرتی نظام اور چہروں پر مسکراہٹیں موجود تھی۔

پھر سفید فام انگریزوں کی اس ملک پر نظر پڑی انکے وسائل ہی انکے دشمن ہو گئے۔ انگریزوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار خوب گرم کیا، دوسری جنگ عظیم کے بعد انکی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں انکو آزادی ملی اور انگریز ملک کی بھاگ دوڑ یہاں کے رہنے والے مقامی افراد کے ہاتھ سونپ گئے، بد قسمتی سے یہ مقامی افراد دور اندیشی اور بصیرت سے عاری ثابت ہوئے، انہوں نے اس ملک کو غیروں کا ملک سمجھ کر بےدریغ لوٹا۔ جس کا جہاں سے دل چاہا لوٹا، بیچ دیا، ملکی وسائل کو لامحدود تصور کیا جاتا رہا۔۔۔۔

نیرو کی فی کس آمدنی دنیا کے ٹاپ کے مالک میں تھی
نیرو کی فی کس آمدنی دنیا کے ٹاپ کے مالک میں تھی

نتیجہ میں وقتی طور پر پیسے کی ریل پیل ہوئی، لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوا۔ سرکاری سرپرستی میں دیا بھر میں انوسٹمنٹ ہوئی ہوٹل خریدے گئے۔ انکی ہوائی جہاز کمپنی اپنی مثال آپ تھی۔ خطہ میں اس ملک کی مثالیں دی جانے لگیں۔ لیکن پیسے کی اس فراوانی میں یہ لوگ اپنی تعلیمی قابلیت اور اہلیت میں کوئی اضافہ نہ کر سکے۔

نیرو کی فاسفیٹ کی چگوڑ دی جانے والی کانیں
نیرو کی فاسفیٹ کی چھوڑ دی جانے والی کانیں

1907 سے اس ملک سے معدنی ذخائز کو نکالا اور برآمد کیا جا رہا تھا۔ 1980 میں اس ملک کی فی کس آمدنی دنیا کے امیر ممالک اور جدید ممالک میں اس کی جگہ بناتی تھی۔ معدنیات کی فروخت پر مکمل اکتفا کرنے کی وجہ سے یہ ملک متبادل آمدنی کے ذرائع نہیں پیدا کر سکا۔ وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ ذخائر ختم ہونے لگے اور خوشیاں ایک ایک کر کے قصہ ماضی بنیں۔

پیسے کی فراوانی اور ترقی انکی نااہلیت، اقربا پروری بدعنوانی کے سامنے نہ ٹھہر سکی، آہستہ آہستہ تمام ہوٹل ایئر لائن فروخت ہوئی، یا قرض خواہوں نے قبضہ کر لیا،  نظام صحت  زمین بوس ہو گیا۔ حالات ابتر ہوتے دیکھ صاحب ثروت افراد نے اپنی اپنی دولت ملک سے باہر منتقل کی جس سے زوال کی رفتار کو پر لگ گئے۔ حد درجہ بد انتظامی نے رہی سہی کسر بھی نکال دی کوئی ادارہ ایسا نہ بچا  جو اس مرتے ہوئے ملک کو سہارا دے سکتا۔

نیرو کے ساحلوں پر کان کنی کی بیکار مشینری

انکا اثاثہ جزیرے پر صدیوں سے مسلسل گرنے والا پرندوں کا فضلہ یعنی بینٹھیں تھیں۔ جس کی وجہ سے ملک کے دو تہائی رقبہ پر فاسفیٹ کے ذخائر جمع ہو گئے تھے۔ تیز اور بے دریغ کان کنی نے زمین تباہ کر دی اور ذخائر نکالنے کے بعد خوفناک کھنڈر میلوں تک نظر آتے ہیں۔

آج حالت یہ ہیکہ ملک کی چالیس فیصد آبادی شوگر کی مریض ہے، اور باقی بلڈپریشر اور ڈپریشن کی مستقل مریض نظام تعلیم و صحت تباہ ہو چکے ہیں۔ اس ملک کا گزر بسر مانگے تانگے کے ڈالروں سے ہوتا ہے، اور آئے روز اس پر کوئی نہ کوئی الزام لگتا رہتا ہے۔ آج یہ ملک امیر ملکوں سے ملنے والی امداد کا منتظر رہتا ہے۔  ایسے ملکوں کے لیے مقامِ عبرت ہے۔ جو اپنے وسائل کا استعمال احتیاط سے نہیں کرتے۔

یہ ملک  بربادی کے راستے کا وہ بڑا سائن بورڈ ہے جو ہر گزرنے والے کو خبردار کرنے کے لیے مسلسل چیخ و پکار کرتا ہے۔

Nauru

 ایک چھوٹا سا ملک ہے, اس کے ساتھ کسی دوسرے ملک کی مماثلت اتفاقی ہو گی، نیرو ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ اگر اہلیت اور قابلیت ن ہ پیدا کی جائے تو خواہ ریکوڈک کا سونا ہو یا سینڈیک کا تانبا اپنے لوگ ذاتی مفاد کے لئے سب بیچ کھاتے ہیں اور اغیار بے دردی سے وسائل لوٹ کر لیجاتے ہیں۔ یاد رکھیں۔

جو سبق نہیں سیکھتے وہ سبق بن جاتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خاور کی یاد میں

لیول پلئنگ فیلڈ

کیا زبان کے ذریعے سوچ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟