سری لنکا نے بڑی طاقتوں کو حیران کر دیا

22 ملین آبادی والا جزیرہ ملک سری لنکا (Sri Lanka) اس وقت عالمی سیاست میں ایک بڑی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ شدید معاشی بحران اور دیوالیہ پن کے باوجود سری لنکا نے انسانیت، بین الاقوامی قانون اور غیر جانبداری (Neutral Foreign Policy) کو ترجیح دی۔

6 مارچ کو سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانایاکے (President Dissanayake) نے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا:

“سری لنکا ایک آزاد اور Non-Aligned Nation ہے۔ ہم کسی ایک ملک کا ساتھ نہیں دیتے۔ ہمارے لیے ہر انسان برابر ہے، چاہے وہ ایرانی ہو، امریکی ہو یا اسرائیلی۔ ہماری ترجیح انسانیت اور جان بچانا ہے۔”

اسی اصول کے تحت سری لنکا نے 236 ایرانی ملاحوں (Iranian Sailors) کو ایک ماہ کے لیے Humanitarian Visa دے دیا۔ ان میں

• 32 وہ ملاح تھے جو تباہ ہونے والے جنگی جہاز IRIS Dena سے زندہ بچ گئے

• اور 204 ملاح وہ تھے جنہیں خراب ہونے والے جہاز IRIS Bushehr سے نکالا گیا

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی بحریہ کی ایٹمی آبدوز USS Charlotte (SSN-766) نے Mk-48 Torpedoes استعمال کرتے ہوئے سری لنکا کے ساحل گالے (Galle) سے تقریباً 19 سے 44 ناٹیکل میل دور ایرانی جہاز IRIS Dena کو ڈبو دیا۔ اس حملے میں 87 ایرانی ملاح ہلاک ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ (United States) چاہتا ہے کہ بچ جانے والے ملاحوں کو ایسی حالت میں رکھا جائے جہاں امریکی انٹیلی جنس کو ان تک رسائی مل سکے، کیونکہ وہ امریکی آبدوز کے خفیہ جنگی طریقے دیکھ چکے ہیں۔

دوسری طرف چین (China) خاموش ہے، حالانکہ سری لنکا کی اہم بندرگاہ Hambantota Port چین کے پاس 99 سال کے لیز پر ہے۔

بھارت (India) نے بھی کوئی واضح بیان نہیں دیا، جبکہ چند ہفتے پہلے یہی ایرانی جہاز بھارتی بحری مشق MILAN 2026 میں شریک ہوا تھا۔

ایران اس ریسکیو آپریشن کی ویڈیوز اپنی ریاستی میڈیا پر مسلسل نشر کر رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سری لنکا اس وقت

• 2022 کے معاشی دیوالیہ پن سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے

• IMF پروگرام کے تحت چل رہا ہے

• چین کا اربوں ڈالر کا قرض دار ہے

• اور اپنی سکیورٹی کے لیے بھارت پر بھی انحصار کرتا ہے

اس کے باوجود سری لنکا نے International Law کے مطابق قدم اٹھایا۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق:

• UNCLOS Article 98 کے تحت سمندر میں ڈوبنے والوں کو بچانا ضروری ہے

• Geneva Convention II Article 17 کے تحت جنگی ملاحوں کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے

• Hague Convention XIII کے مطابق انہیں دوبارہ جنگ میں جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

سری لنکا نے ان تمام قوانین پر عمل کیا۔

یہ وہی سری لنکا ہے جس نے 1961 میں Non-Aligned Movement کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا تھا اور 1971 میں Indian Ocean Zone of Peace کی تجویز بھی دی تھی۔ اب یہی ملک BRICS Partnership حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتیں سمجھ رہی تھیں کہ سری لنکا دباؤ میں آ جائے گا۔

امریکہ کو لگا معاشی دباؤ کام کرے گا۔

چین کو لگا قرض اثر دکھائے گا۔

بھارت کو لگا جغرافیائی قربت فیصلہ بدل دے گی۔

اور ایران کو لگا سری لنکا مکمل حمایت کرے گا۔

لیکن سری لنکا نے سب کو ایک ہی جواب دیا:

“ہم غیر جانبدار ہیں، ہم انسانیت کو ترجیح دیتے ہیں، اور ہم کسی ایک طاقت کا ساتھ نہیں دیتے۔”

یوں Indian Ocean Politics میں ایک کمزور معیشت والے ملک نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ اصل طاقت اصولوں پر قائم رہنے میں ہوتی ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خاور کی یاد میں

لیول پلئنگ فیلڈ

کیا زبان کے ذریعے سوچ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟