اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں۔

تصویر
ہمارے ذہن میں کیونکہ صرف سیاسی عقائد اور سیاسی شعبدہ بازی کو زندہ رکھا جاتا ہے، اس لیے ہم سامنے ہونے والی تبدیلیوں کو بھی محسوس نہیں کر پاتے۔ ہم تیزی سے اس خطرناک صورتحال کی طرف جا رہے ہیں جس کے متعلق ہم خود اور مہذب دنیا نشان دہی کرتی آرہی ہے۔ وقت جس تیزی سے گزر رہا ہے، بچنے کے امکان اتنی ہی تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم اکیلے نہیں ہیں جو اس صورتحال سے دوچار ہیں۔   پاکستان کا مستقبل پانی زندگی کی علامت ہے یہ پانی اگر رخ بدل لے تو ماہنجوداڑو جیسی اپنے وقت کی عظیم تہذیب قصہ ماضی بن جاتی ہے۔ پاکستان نے 2017 میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں پاکستان کے 2035 میں پاکستان میں پانی کے ختم ہو جانے کی نشان دہی کی گئی۔ سال 2022 میں برصغیر کی تاریخ ک شدید ترین سیلاب آیا۔ اس سیلاب سے پاکستان کا 75 فیصد سے زائد حصہ ڈوب گیا۔ ہم نے اس سال بھی صرف مر جانے والوں کے کفن دفن کے لیے بھیک ہی مانگی۔ اور اگلے سیلاب تک کی خاموشی اوڑھ لی۔ لیکن ایک بات جو غور کرنے کی ہے۔ کہ لاہور اور اس کے گرد و نواح کے تقریبا 16 ضلعے کیوں محفوظ رہے۔ انڈیا نے کشمیر میں ایک کے بعد ایک ڈیم بنائے اور ہم صرف ترانے بجا...

جنگ کا جنون

تصویر
زن زر زمین کے تمام جھگڑے ضابطے میں تو اگئے، لیکن چوتھا عنصر اسی کروفر اور طاقت کے ساتھ نسل انسانی کو ہر روز تباہی کے ایک نئے رخ سے روشناس کرواتا رہا۔ عرصہ قبل انسانی کو اشرف المخلوقات مانتے ہوئے انکے کچھ حقوق طے کر دئیے گئے، جنکو بنیادی انسانی حقوق قرار دیا گیا۔ یہ حقوق انسانی ریاستوں اور حکومتوں کی ذمہ داریاں قرار پائی، اور ساتھ ہی ان ریاستوں اور حکومتوں کو چلانے کے لیے آئین ،دستور اور قانون بنائے گئے۔ ملکوں کی حدود طے کر د گئی۔ تاکہ اس دنیا کو حضرت انسان کے رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔ آئین کسی بھی قوم کی روح کی اہمیت رکھتا ہے جو کسی بھی صورت حال یا بھنور میں پھنسی قوم کو کنارے تک لانے کی طاقت رکھتا ہے۔ آئین کے ہوتے کوئی طالع آزما ، کوئی فوجی ڈکٹیٹر یا سیاسی غاصب اقتدار پر قابض نہیں ہو سکتا، اس لیے جب بھی جمہور کے حق پر شب خون مارا جاتا ہے اسی آئین کو معطل اور پھر منسوخی کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اب عام حالات میں تو ایسا ممکن نہیں ہوتا، اس عمل کے لئے ہنگامی حالات کا موجود ہونا ضروری ہے۔ ہنگامی حالات میں جب انسانی جانوں پر بن آئے اور ان کے بنیادی حقوق کو خطرہ در پیش ہو جائے، تو ہنگامی قو...

اپاہج انصان

تصویر
 ہرمحفل میں ماضی کے ایک طاقتور شخص برگیڈئر امتیاز عرف برگیڈئر بلا کے بڑھاپے میں اسکی اولاد کے ہاتھوں ہونے والے سلوک کو خدا کی لاٹھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ہر شخص کف افسوس ملتے ہوئے انکے مظالم اور جرائم کی اصل تعداد بھی بتانے سے قاصر ہے۔ کراچی آپریشن شاید مغربی پاکستان کا اب تک کا سب سے خوفناک آپریشن ہے۔ ہزاروں لوگ مار دئیے گئے۔ خاندان برباد ہوئے، اور جو بچے وہ در بدر ہوئے. ہمارے اردگرد دیکھیں، لاتعداد بوڑھے اپنی اولادوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے نظر آتے ہیں۔ لا تعداد واقعات ہیں بوڑھے والدین پر باقاعدہ تشدد کیا گیا ہے۔ اولڈ ہرمز زندہ مثال ہیں۔ ہماری عدالتیں ایسے ایسے کیسز سے بھری ہیں، جن پر جج خود کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہاں میں سوال کرنا چاہتا یوں۔ کیا دنیا میں رہتے پاکستان نامی جمہوریہ میں کوئی ایک بھی ایسا ج, عدالت یا ادارہ نہیں جو برگیڈئر کو ان مظالم یا جرائم کی سزا دے سکے۔ ایک مظلوم کے پاس زمین سے لیکر آسمان تک کوئی بھی ایسی جگہ نہیں جہاں جا کر وہ اپنی فریاد رکھ سکے اور اسے انصاف کی امید ہوں۔ اج معاشرہ اس قدر بے بس اور مجبور پے کہ ہر شخص کو آخرت میں عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اور خدا کی ن...

جہادی دلہن لوٹ کر جائے کہاں۔۔

تصویر
ذکر ہے شمینہ بیگم، جسے "جہادی دلہن" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، والدین کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا، جبکہ شمینہ برطانوی شہریت یافتہ تھیں،یہ 2015 میں شام میں دولت اسلامیہ میں شامل ہوئی، 2019 میں ایک شامی پناہ گزین کیپ میں نظر ائیں، اور برطانیہ انے کی درخواست دی۔  لیکن۔ برطانیہ نے قومی سلامتی اور دہشت گردی کی بنیاد پر شہریت منسوخ کر دی تھی۔   شمینہ 23 فروری 2024 کو اپنی برطانوی شہریت واپس لینے کے لیے عدالتی مقدمہ ہار گئی تھیں۔  شمینہ بیگم 2019 میں ایک شامی پناہ گزین کیمپ میں دوبارہ سامنے آئیں اور درخواست کی کہ انہیں برطانیہ میں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔  2019 میں قومی سلامتی کی بنیاد پر ان کی برطانیہ کی شہریت چھین لی گئی۔ عدالتی کیس ایک بار روک دیا گیا تھا تاکہ انہیں بنگلہ دیش کی شہریت کے لیے درخواست دینے کا موقع ملے کیونکہ یہ ان کے والدین کا آبائی ملک تھا۔   بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبدالمومن کا کہنا ہے کہ اگر وہ کبھی بھی دہشت گردی میں ملوث ہونے پر بنگلہ دیش آئیں تو انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے گا اور کہا کہ بنگلہ دیش کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیا ز...

آئی فون کیوں پاکستان میں سٹور نہیں کھولتا؟

تصویر
آئی فون کیوں پاکستان میں اپنا سٹور نہیں کھولتا؟ : پاکستان کے تاریک مستقبل کا آئی فون سے کیا تعلق ہے اور جاز کمنی کا اس میں  کیا خفیہ کردار ہے۔۔ نئی نسل کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

غدار پیدا گیر معاشرہ ؟

تصویر
غدار پیدا گیر معاشرہ اور ملک چھوڑتے نوجوان : غدار کیوں ہمیشہ مسلمانوں اور تیسری دنیا میں پیدا ہوتے ہیں، وسائل لوٹ کر انہی ملکوں میں چلے جاتے ہیں جنکو ظالم کہتے ہیں،کیوں ملک سے لاکھوں نوجوان ملک کو مشکل حالات میں چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔

کامیاب لوگوں کی زندگی کے 10مشترک خواص

تصویر
دنیا کے کامیاب افراد میں پائی جانے والی دس مشترک باتیں انسان اپنی مرضی سے امیر یا غریب پیدا میں پیدا نہیں ہوتا ،لیکن اپنی حالت کو بدلنے اور غربت میں سسک سسک کر مر جانے میں اس کا خود کا کردار زیادہ ہوتا ہے.  اسی طرح قوموں کی زندگی میں ملک ترقی یا تنزلی کا راستے پر گامزن ہوں گے،اسکا فیصلہ افراد کے رویے میں چھپا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست کا جائزہ لیں توبغیر کسی خاص مشقت سامنےچند خوبیاں سامنے آتی ہیں.. نئی نسل کی تباہی کا ذمہ دار کون؟ :