چوہدری پرانا ای ٹھیک اے

 امریکہ ایک سپر پاور ہے، ایک ایمپائر دنیا کا سب سے طاقتور ملک۔ پچھلے کچھ عرصہ سے امریکہ عالمی قوانین کا کسی حد تک احترام کرنے لگا تھا، یہ بھولتے ہوئے کہ اس پر لاگو نہیں ہوتے۔ ٹرمپ کو پاگل کہیں یا جو بھی ٹرمپ نے گرتی ہوئی دیوار کو ایک بار سہارا دے دیا ہے۔ ٹرمپ کی اگریسو پالیسوں نے امریکہ کو اگلی دہائی میں کھڑا رہنے قابل بنا دیا ہے۔


وینزویلا کے صدر کی اغوا سے چند گھنٹے قبل چینی خصوصی ایلچی کے ساتھ مالاقات
وینزویلا کے صدر کی اغوا سے چند گھنٹے قبل چینی خصوصی ایلچی کے ساتھ مالاقات 


عالمی منظر نامے پر امریکہ کا سب سے بڑا حریف چین کو تصور کیا جا رہا تھا۔ چھوٹے چھوٹے ملک چین سے جڑنے لگے تھے اور چینی سفارتوں کی طرف متوجہ ہونے لگے تھے۔ چین نے جس طرح عالمی تجارت پر اجارہ داری قائم کی ہے،وہ متاثر کن ہے۔ چین نے غیر محسوس طریقہ سے عالمی بندرگاہوں میں جس تیزی سے سرمائیہ کاری کی دنیا چین کو نئی عالمی طاقت سمجھنے لگی تھی۔

عالمی ایوانوں میں پہلا جھٹکا اس دن لگا جس دن چین پر تکیہ کرتے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکہ نے اس کے صدارتی محل سے اسکی بیوی سمت اغوا کر لیا۔ چین کے لیے زیادہ سبکی کی وجہ اغوا سے چند گھنٹے پہلے مادورو نے چین کے لاطینی امریکہ کے لیے خاص ایلچی سے ملاقات کی تھی۔ اتفاق سے اسی دن چین کے نمائندہ خاص سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملاقات کی۔ چائنہ وینزویلا سے ہر روز 4٫70,000 بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے۔ نکلا مادورو کا خیال تھا کہ چائنا کی قربت اسکو بچا لے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

دوسرا موقع ایران پر امریکی حملہ کا تھا ، محسوس یہی ہو رہا تھا کہ چائنا ایران کے پیچھے کھڑا ہو جائے گا اور یہ اس کے لیے سنہری موقع تھا میں چین چپ چاپ پیچھے ہٹتا گیا اور ایسا لگا کہ جو وسائل اب تک ایران کو دئیے انکی قیمت سستے ایرانی تیل کی شکل میں وصول کرلی۔

اس موقع پر روس نے کئی بار واضع پوزیشن اختیار کی۔ امریکی صدر نے اپنا خصوصی ایلچی پیوٹن کے پاس بھیجا کہ ایرانی پشت پناہی سے منع کر سکے تو پیوٹن نے اسے یوکرائن کی پشت پناہی ترک کرنے سے مشروط کر دیا۔ اور ایرانی ٹیکنیکل و سیاسی امداد جاری رکھی۔ یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی کہ مجتبی خامنہ ای کریملن میں زیر علاج ہیں۔

چند روز قبل امریکی انتظامیہ کے ایک درمیانے درجے کے اہلکار نے پریس کے سامنے چینی جہازوں کے لیے ایرانی تیل ممنوع قرار دے دیا اور واضع کہ کہ چین کے جہاز روک لیے جائیں گے۔

چین ایران سے روزانہ 1,80,000 ہزار بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے۔ یہ ایرانی تیل کی برامد کا قریب 90فیصد بنتا ہے۔ 

حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے چائنا کے صوبہ Shandong میں واقع ایک ریفائنری پر پابندی لگا دی ہے  نہ صرف ریفائنری بلکہ اس سے منسلک بحری جہازوں اور ذیلی کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔ 

چائنہ نے عالمی سیاست میں اپنا رول بنیے کا طے کر لیا ہے۔ کو ہر قسم کے حالات میں اپنا فایدہ دیکھتا ہے اور اور چلتا بنتا ہے  

اسی چین پر ہمارا بھی اکتفا ہے۔ اسی چین کے ساتھ ہماری دوستی بھی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔  ہمارا حال بھی وقت پڑنے پر نکلس مادورو اور ایران جیسا ہی ہو گا۔

میرے خیال سے تو چوہدری پرانا آج ٹھیک ہے  بے عزتی کرتا یے۔ لیکن ڈالر بھی تو دیتا ہے  اور اج تک ہمیشہ ہمارا خیال بھی رکھتا رہا ہے۔  


آپکا کیا خیال ہے۔ ؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خاور کی یاد میں

لیول پلئنگ فیلڈ

کیا زبان کے ذریعے سوچ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟